Joseph golden state killer america no 1 criminal real life Joker



دوستو یہ حیرت انگیز کہانی امریکہ کے شہر کیلیفورنیا سے ہے.1975 سے1986 تک 11 سالوں تک امریکا کے شہر کیلیفورنیا میں شدید خوف پھیلا ہوا تھا. یہ خوف ایک انتہائی خطرناک مجرم کی وجہ سے تھا اس انسان نے ایسے خطرناک جرم کیے تھے کہ انسانیت بھی شرما جائے. اس انسان کو(GOLDEN STATE KILLER) کہتے ہیں.1975 سے1986 تک کیلیفورنیا کے مختلف شہروں میں رات کے وقت ایک عجیب آدمی کو دیکھا جاتا تھا جو شروع شروع میں دوسروں کے گھروں میں داخل ہوکر عجیب چیزیں چراتا تھا. جیسا کہ سکھوں سے بڑا ہوا کوئی چار یا پھر بچوں کے چیتے ہوئے انعامات یا پھر کسی کے کپڑے وغیرہ.

بہت سے لوگ اس آدمی کو دیکھ چکے تھے لیکن اس نے ماکس پہننا ہوا ہوتا تھاجس کی وجہ سے اس کو کوئی آدمی پہچان نہیں سکتا تھا. یہ آدمی زیادہ تر کسی کھلی ہوئی کھڑکی سے لوگوں کے گھروں میں داخل ہوتا تھا دوستوں کچھ عرصے بعد کیلیفورنیا کے علاقے میں لوگوں کے گھروں میں بڑے بڑے ڈاکہ پڑھنا شروع ہوگئے. ان تمام وارداتوں میں ایک چیز عام تھی اور وہ چیز وہ آدمی تھا انہی دنوں کیلیفورنیا میں قتل کے واقعے زیادہ ہونا شروع ہوگئے لوگوں کو بلا وجہ قتل کر دیا جاتا جیسا کہ ایک میاں بیوی اپنے کتے کے ساتھ واک کر رہے تھے کہ اچانک کسی نے بلاوجہ انہیں گولیاں مار کر قتل کر دیا. اس طرح کے قتل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا اور دوسری طرف لوگوں کے گھروں میں ڈاکہ پڑھنا بند نہیں ہو رہے تھے. بہت جلد یہ بات سامنے آئی کہ قتل اور چوڑی کی واردات میں صرف ایک انسان شامل ہے. اس انسان کو بہت سے لوگوں نےبغیرماسک کے بھی دیکھا اس کےاسکائچ بھی بنوائیں لیکن حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پھر بھی اس کو پولیس نہیں پکڑ پا رہی تھی

دوستو اس ظالم انسان کے جرم کی داستان یہاں ختم نہیں ہوتی اس انسان نے ایسے ایسےجرائم کیے جو میں آپ کو یہاں پتا نہیں سکتا یہ ایسے جرائم تھے جو یہ بات ثابت کرتے تھے کہ یہ آدمی دماکی طور پر صحیح نہیں ہے اس آدمی نے بہت سے خاندانوں کو تباہ کر دیا تھا یہ آدمی کسی کو قتل کرنے کے بعد اس کےگھر میں خود فون کرتا تھا اور اس کے گھر والوں پر ترس کرتا تھا کہ پولیس اس کو کبھی نہیں پکڑ سکتی.اس دوران لوگ شدید خوف دہ تھے اور اپنے گھروں سے نکلتے ہوئے ڈرتے تھے پولیس اس کے بارے میں صرف چند باتیں جانتی تھی جیسا کے اس کا قد 5 فٹ 9 انچ ہیں یہ ایک نوجوان لڑکا ہے اور اس کا رنگ گورا ہے یہ رات کے وقت لوگوں پر حملہ کرتا ہے اور ان کے گھروں میں گھستا ہے لیکن اس کے علاوہ اس ظالم انسان کے میں کوئی بات سامنے نہیں آ سکی. بہت سے لوگوں نے اس کےاسکائچ بھی بنوائیں لیکن ہراسکائچ دوسرے سے مختلف ہوتا تھا.

دوستو کیلی فورنیا کی پولیس یہ معاملہ حل نہیں کر سکی اس کو20,30 یہاں تک کے چالیس سال گزر گئے آپ سوچ رہے ہوں کے یہ معاملہ بند کر دیا ہوگا لیکن اس آدمی کے جرائم اتنے خطرناک تھے کے پولیس40 سال بعد بھی اس آدمی کو تلاش کر رہی تھی. جون2016 میں ایف بی آئی نے اس آدمی کی خبر دینے والے کو پچاس ہزار ڈالرز دینے کا اعلان کیا یہ معاملہ اب40 سال پرانا ہو چکا تھا کوئی امید نظر نہیں آرہی تھی لیکن جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے اس معاملے کو حل کردیا گیا اس دماغی مریض نے ایسے جرائم بھی کیے تھے کے پولیس کے پاس اس کے DNA سیمپل موجود تھے. اس کےDNA سیمپل کو استعمال کرکے اس کی ایک پروفائل بنائی پھر اس پروفائل کوڈیٹا بیس میں ڈالا گیا جس سے چالیس سال بعد اس آدمی کی فیملی کا پتہ لگ گیا اس کی فیملی میں ایک بوڑھا آدمی تھا جس کا نامJOSEPH تھا. حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ72 سال کا آدمی خود 40 سال پہلے کیلیفورنیا میں ایک پولیس والا تھا.24 اپریل2018 کو اس بے رحم مجرم کو گرفتار کر لیا گیا جو یہ پی آدمیJOSEPH تھا پتہ یہ چلا کہ جوزف 1965 سے1995 تک جب یہ جرائم ہو رہے تھے خود اس دوران پولیس کا حصہ تھا جو اس کو ڈھونڈ رہی تھی. عجیب بات یہ ہے کہ اس آدمی نے کیلیفورنیا یونیورسٹی سے کریمنل جسٹس پڑھیں ہوئی تھی اور یہ آدمی خود ایک مجرم بن گیا اس نے کافی سال امریکہ کی فوج میں گزارے تھے. جون2020 میں چالیس سال کے بعد آخر ان تمام لوگوں کو انصاف مل گیا اس آدمی کو ویل چیئر پرعدالت لایا گیا. بہت سی زندگیاں ختم کرنے والا یہ شخص بھول گیا تھا کہ اس نے بھی ایک دن مرنا ہے. اس شخص کو باقی کی ساری زندگی جیل میں گزارنے کی سزا ہوئی.

 


No comments

thank u for your opinion if u have a story please tell us we will publish it as soon as possible

Powered by Blogger.